welcome
We've been working on it

جعلی اور ریمارک شدہ کیپیسیٹرز کی شناخت: وصولی معائنے کے فیصلہ کن اصول

پاکستان کی صنعتی اکائیوں — خاص طور پر ٹیکسٹائل اور سٹیل ملز — میں درآمد شدہ کیپیسیٹرز کی کھیپیں اکثر بازار سے حاصل کی جاتی ہیں، جہاں جعلی یا ریمارک شدہ اجزاء کا امکان رہتا ہے۔ پرانے، کم درجہ کے یا پہلے ناکام ہو چکے کیپیسیٹرز کو صاف کر کے اوپر نئی درجہ بندی چھاپ دی جاتی ہے، اور یہی اشیاء مشینری کی سرکٹس میں جلد خرابی کا باعث بنتی ہیں۔ شدید گرمی اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ والے ماحول میں یہ مسئلہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ اس مضمون میں وصولی معائنے کے دوران جعلی اور ریمارک شدہ کیپیسیٹرز کی پہچان کے عملی معیار اور مرحلہ وار طریقہ پیش کیا گیا ہے۔

معائنے کا دائرہ اور عام خطرناک علامات

یہ جانچ ایلومینیم الیکٹرولائٹک اور فلم کیپیسیٹرز پر مرکوز ہے، کیونکہ یہ دونوں اقسام صنعتی پاور سرکٹس میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور ان کی جعلسازی بھی عام ہے۔ معائنہ گودام میں داخلے سے پہلے، سامان وصولی کے موقع پر ہونا چاہیے۔ اکثر جعلی اشیاء صرف بصری مشابہت رکھتی ہیں، لیکن درج ذیل علامات میں سے ایک یا زیادہ نظر آئیں تو سامان کو علاحدہ رکھ کر تفصیلی جانچ کریں:

  • کیس کا سائز مقررہ درجہ بندی کے مقابلے میں چھوٹا — مثلاً 4700 µF / 400 V کے لیے مستعمل کیس 35×50 mm کی بجائے 30×40 mm سے چھوٹا ملنا۔
  • سیل وینٹ (توڑ) پر پرانی کھلنے کے نشانات — یہ ثبوت ہے کہ کیپیسیٹر ماضی میں زیادہ گرم ہو کر کھل چکا ہے۔
  • لیبل یا چھپائی کی ساخت میں بے ترتیبی — لیزری چھپائی دھندلی یا جزوی طور پر مٹائی گئی، یا سیاہی سے چھپی ہوئی نئی درجہ بندی۔
  • لٹ کوڈ اور تاریخ کوڈ کا آپس میں مماثل نہ ہونا، یا کوڈ کی وہ قطار جہاں اصل نشانات مٹانے کے آثار نظر آئیں۔
  • وزن میں کمی — اندر موجود الیکٹرولائٹ خشک ہونے یا ایلومینیم فوائل کی کم مقدار کی علامت۔

اہم پیرامیٹرز کے فیصلہ کن معیار

بصری جانچ کے بعد برقی پیرامیٹرز کی پیمائش کریں۔ نیچے دیے گئے جدول میں وہ حدود دی گئی ہیں جو ریمارک شدہ اشیاء کو الگ کرنے میں معاون ہوں گی۔ پیمائش کے لیے ایل سی آر میٹر (120 ہرٹز) اور ڈی سی رساو جانچ کا سیٹ اپ درکار ہے۔

پیرامیٹرجانچ کی شرطقبولیت کی حدریمارک شدہ ہونے کی علامت
کیپیسیٹینس120 ہرٹز، 20 °Cنامی قدر کے ±20% کے اندرحد سے زیادہ کمی یا غیر معمولی اضافہ
ESR120 ہرٹز، 20 °Cڈیٹا شیٹ کی نامی قدر کا ≤1.3 گناESR میں 50% سے زیادہ اضافہ
رساو کرنٹنامی وولٹیج پر 5 منٹ بعد0.01 CV (µA) یا 2 µA جو بھی زیادہ ہومستحکم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتا رہنا
رپل کرنٹ برداشتنامی حرارت (85 °C یا 105 °C)کیس ٹمپریچر رائز ≤12 °Cجلد گرم ہو جانا اور وینٹ کا ابھار
حرارتی درجہ بندیکیس پر چھپی قدردستاویزی مصنوعات کے ساتھ مماثل85 °C کی جگہ 105 °C چھپا ہونا

واضح رہے کہ مندرجہ بالا حدود عمومی حوالہ ہیں۔ معروف صنعت کار کی اصل ڈیٹا شیٹ دیکھے بغیر، اگر چھپی ہوئی درجہ بندی اور ماپے گئے اقدار میں نمایاں فرق ملے تو اسے ریمارک شدہ مصنوعات کا قوی امکان سمجھیں۔

مرحلہ وار وصولی معائنے کا طریقہ

معائنے کا طریقہ کار ترتیب سے طے کریں تاکہ ہر کھیپ ایک ہی معیار پر جانچی جائے۔ عملے کو درج ذیل مراحل پر عمل کرنا چاہیے:

  1. باکس اور پیکنگ کا معائنہ — پیکنگ پر موجود پارٹ نمبر، لٹ کوڈ اور مینوفیکچرر کا نام کھیپ کے ساتھ مماثل ہونا چاہیے۔
  2. کیس کے طول و عرض اور وزن کی تصدیق — نامی درجہ بندی کے لیے عام کیس سائز کے جدول سے موازنہ کریں۔
  3. ایل سی آر میٹر سے 20 °C پر کیپیسیٹینس اور ESR کی پیمائش — ہر بیچ سے کم از کم تین نمونے لیں اور اوسط نکالیں۔
  4. ڈی سی رساو کی جانچ — نمونے کو نامی وولٹیج پر 5 منٹ تک چارج رکھیں، پھر رساو کرنٹ ریکارڈ کریں۔
  5. حرارتی جانچ — نمونے کو نامی رپل کرنٹ کے قریب کرنٹ پر چلائیں اور کیس کا ٹمپریچر رائز نوٹ کریں۔
  6. نتائج کا ریکارڈ — ہر کھیپ کے لیے پیمائشی لاگ مرتب کریں، تاکہ مستقل سپلائرز کے معیار سے موازنہ ممکن ہو۔

اگر پیمائش کے دوران کوئی نمونہ جدول میں دی گئی حد سے باہر ہو تو اسی بیچ کے پانچ مزید نمونے جانچیں۔ ان میں سے دو یا زیادہ ناکام ہوں تو پوری کھیپ کو رد کر کے واپس بھیجنا زیادہ محفوظ ہے۔

خریداری کے عملے کے لیے عملی مشورے

ریمارک شدہ کیپیسیٹر خریداری کی بچت چند روپے کر سکتا ہے، لیکن مشینری کے ڈاؤن ٹائم اور مرمت کا خرچ اس سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وصولی کے مرحلے پر کی جانے والی پیمائش سب سے سستا بیمہ ہے جو آپ لے سکتے ہیں۔

بھروسہ مند تقسیم کاروں سے طویل مدتی تعلقات قائم رکھیں اور ہر کھیپ کے ساتھ اصل مصنوعات کی دستاویزات طلب کریں۔ بازار میں معمول سے نمایاں کم قیمت ملے تو اس پر شک کریں۔ ایسے ماحول میں جہاں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ عام ہیں، ڈی ریٹنگ کے اصول بھی ذہن میں رکھیں — نامی وولٹیج کے 90 فیصد سے اوپر استعمال سے کیپیسیٹر کی عمر تیزی سے گھٹتی ہے، اس لیے ریمارک شدہ اقسام کا انتخاب مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔

آخر میں، وصولی معائنے کا یہ طریقہ صرف ایک بار کی جانچ نہیں بلکہ باقاعدہ عمل ہونا چاہیے۔ ہر کھیپ کے نمونے محفوظ رکھیں اور 6 ماہ بعد انہیں دوبارہ جانچیں تاکہ خرابی کے رجحانات معلوم ہوں۔