پاکستان کے صنعتی یونٹس — خاص طور پر ٹیکسٹائل اور اسٹیل ملز — میں لائن وولٹیج کا اتار چڑھاؤ، پینل کے اندر زیادہ درجہ حرارت اور طویل شفٹوں کی وجہ سے الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر ایسا جزو ہے جو اکثر خراب ہوتا ہے۔ مرمت کے وقت اگر جعلی یا دوبارہ نشان زدہ (re-marked) کیپیسیٹر نصب کر دیا جائے تو مشین چند ہفتوں میں پھر خراب ہو جاتی ہے۔ اس مضمون میں وصولی معائنہ کے مقام پر ان کی پہچان کے لیے ظاہری علامات، برقی حدود اور نمونہ جانچ (sample testing) کے اصول دیے گئے ہیں۔
صنعتی مشینری میں کیپیسیٹر پر پڑنے والا اصل دباؤ
ٹیکسٹائل ملز کے اسپننگ اور ویونگ سیکشن میں نصب متغیر فریکوئنسی ڈرائیوز (VFD) اور سوئچنگ پاور سپلائیز اپنے ڈی سی لنک میں ایلومینیم الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر استعمال کرتی ہیں۔ 220 VAC ان پٹ کو ریکٹیفائی کرنے پر نارمل حالات میں تقریباً 310 V DC بنتا ہے، لیکن پاکستان میں بجلی کی بندش اور جنریٹر سوئچنگ کے دوران وولٹیج 180 سے 270 V کے درمیان جھول سکتا ہے۔ ریکٹیفائیڈ وولٹیج اس کے ساتھ بڑھ کر 380 V تک پہنچ سکتا ہے، جس کے لیے 400 V کی کم از کم ریٹنگ درکار ہے۔
اس کے علاوہ موٹر کی لوڈ میں تبدیلی اور PWM سوئچنگ سے رپل کرنٹ (ripple current) پیدا ہوتا ہے جو کیپیسیٹر کے اندرونی ای ایس آر (ESR) کے باعث حرارت بنتا ہے۔ پینل کے اندر محیطی درجہ حرارت 45 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اور کیپیسیٹر کا کور درجہ حرارت اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اصلی کیپیسیٹر میں 105 ڈگری سینٹی گریڈ والی ریٹنگ، کم ESR اور زیادہ رپل کرنٹ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
جعلی اور دوبارہ نشان زدہ کیپیسیٹر کیسے بنائے جاتے ہیں
مارکیٹ میں ملنے والے جعلی کیپیسیٹر عام طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم: پرانے یا کم معیار والے کیپیسیٹر کی ایلومینیم باڈی کو صاف کر کے اس پر مشہور برانڈ کا نام اور بڑی کیپیسیٹینس چھاپ دی جاتی ہے۔ دوسری قسم: کم وولٹیج والے کیپیسیٹر (مثلاً 350 V) کو 450 V کے لیبل کے ساتھ دوبارہ نشان زدہ کیا جاتا ہے تاکہ خریدار کو سستا متبادل فراہم کیا جا سکے۔ اندرونی ساخت (ڈائی الیکٹرک اور الیکٹرولائٹ) تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے برقی خصوصیات نشان زدہ اقدار سے بہت مختلف رہتی ہیں۔
ظاہری معائنہ میں ان علامات پر توجہ دیں: پرنٹ کا فونٹ اصلی برانڈ سے ذرا مختلف، باڈی کا چمکدار یا ریت سے صاف کیا ہوا حصہ، اور اوپری حفاظتی وینٹ (safety vent) کا غیر معمولی گہرا ہونا۔ نیچے والا ربڑ بنگ اگر ابھرا ہوا ہو تو سمجھیں کہ کیپیسیٹر پہلے گرمی کھا چکا ہے۔ ہیٹر یا ہیئر ڈرائر سے سلیو کو نرم گرم کریں؛ جعلی پرنٹ اکثر پھسل جاتا ہے جبکہ اصلی پرنٹ گرمی پر قائم رہتا ہے۔
وصولی معائنہ: قابل قبول برقی حدود کی جدول
ہر نئی کھیپ کا 100 فیصد معائنہ ممکن نہیں، اس لیے نمونہ بنیاد پر برقی جانچ کریں۔ درج ذیل حدود عام مقصد کے ایلومینیم الیکٹرولائٹک کیپیسیٹرز کے لیے ہیں اور ان سے زیادہ انحراف جعلی ہونے کا قوی اشارہ ہے۔
| پیرامیٹر | جانچ کا طریقہ | قبولیت کی حد | مسترد کرنے کی شرط |
|---|---|---|---|
| برقی گنجائش (Capacitance) | 120 Hz، 20°C، LCR میٹر | نشان زدہ قدر کا ±20% | اس حد سے باہر کی قدر |
| ڈسپیسیشن فیکٹر (tan δ) | 120 Hz، 20°C | 16-100 V کے لیے ≤ 0.15؛ 160-450 V کے لیے ≤ 0.25 | زیادہ DF یعنی اندرونی نقصان |
| رساو کرنٹ (Leakage current) | ریٹڈ وولٹیج پر 2 منٹ، 20°C | ≤ 0.01 × C (µF) × V + 10 (µA) | فارمولے کی حد سے 1.5 گنا زیادہ |
| ای ایس آر (ESR) | 100 kHz، 20°C | قابل اعتماد نمونے کے مطابق | اصلی نمونے سے 1.5 گنا زیادہ ESR |
| وزن | الیکٹرانک ترازو | معیاری حوالہ کے ±10% کے اندر | زیادہ فرق = اندرونی ساخت کا مختلف ہونا |
اس کے علاوہ کھیپ کے ہر 50 میں سے 3 کیپیسیٹر پر قلیل مدتی وولٹیج ٹیسٹ کریں: ریٹڈ وولٹیج کا 120 فیصد 10 سیکنڈ کے لیے لگائیں۔ جعلی ڈائی الیکٹرک اس دباؤ پر رساو کرنٹ میں اچانک اضافہ دکھاتا ہے۔
تنصیب اور جانچ کے عملی نوٹ
مرمت کے دوران کیپیسیٹر نصب کرنے سے پہلے ESR میٹر سے ایک بار برقی گنجائش اور ESR ضرور چیک کریں۔ 100 kHz پر ESR جتنا کم ہوگا، رپل کرنٹ کی وجہ سے اندرونی حرارت اتنی ہی کم ہوگی۔ پاکستانی حالات میں 220 VAC لائن کے لیے 400 V کی بجائے 450 V ریٹنگ والا کیپیسیٹر محفوظ انتخاب ہے کیونکہ یہ وولٹیج جھولوں پر اضافی مارجن دیتا ہے۔
نئی کھیپ کو اسٹور میں داخل کرنے سے پہلے 85°C والے اوون میں 24 گھنٹے کے لیے ریٹڈ رپل کرنٹ کے ساتھ چلائیں؛ اگر کسی نمونے کی گنجائش 30 فیصد سے زیادہ گھٹ جائے تو پوری کھیپ مسترد کر دیں۔ صنعتی پینل میں کیپیسیٹر کے ارد گرد ہوا کی نکاسی کے لیے سوراخ رکھیں اور اسے ہیٹ سنک یا موٹر ڈرائیو کے قریب نہ لگائیں۔ جنرل پرپز کیپیسیٹر کو سخت سوئچنگ والے سرکٹ میں استعمال نہ کریں — وہاں کم ای ایس آر (low ESR) والا کیپیسیٹر درکار ہوتا ہے۔

AKKN Electronics Pakistan