پاکستان کے صنعتی شعبے میں، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور اسٹیل ملز میں، بجلی کے وولٹیج میں شدید اتار چڑھاؤ اور گرمی کا ماحول کیپیسیٹر بینکوں کے انتخاب کو محتاط طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر بینک چھوٹا منتخب کیا جائے تو پاور فیکٹر مطلوبہ حد تک نہیں پہنچتا، اور اگر بڑا ہو تو اوور وولٹیج اور ضرورت سے زیادہ کیپیسیٹو کرنٹ کی وجہ سے عمر مختصر ہو جاتی ہے۔ یہ مضمون ان اعداد و شمار کی فیصلہ کن حدود بتاتا ہے جو خریداری کے عملے کو کسی بھی مینوفیکچرر کی ڈیٹا شیٹ دیکھنے سے پہلے معلوم ہونے چاہئیں۔
پاور فیکٹر کریکشن کب ضروری ہے؟
پاور فیکٹر کریکشن صرف اس وقت معاشی ہے جب انڈکٹو لوڈ مجموعی لوڈ کا اہم حصہ ہو۔ پہلا معیار یہ ہے: اگر مین انکمر پر ماپا جانے والا پاور فیکٹر 0.85 سے کم ہے اور یہ کام کے اوقات میں کم از کم تیس منٹ تک قائم رہتا ہے، تو بینک لگانا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر بجلی کے بل میں PF پینلٹی مستقل مد ہے تو یہ بھی واضح اشارہ ہے۔ ٹیکسٹائل ملز کے کاٹننگ، کتائی اور بنائی کے شعبے بڑی موٹروں پر مشتمل ہیں جن کا PF 0.6 سے 0.75 تک گر سکتا ہے، جبکہ اسٹیل ملز میں آرک فرنس اور رولنگ مل کے لوڈ کے ساتھ ہارمونکس کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس مرحلے پر صرف لوڈ کے سائز کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں؛ بلکہ ایک ہفتے کے پاور فیکٹر لاگ کا ریکارڈ ضروری ہے۔
اہم پیرامیٹرز کی فیصلہ کن حدود
kVAr کی گنجائش
درکار kVAr کا فارمولا ہے: P(kW) × [tan(cos⁻¹ PF₁) − tan(cos⁻¹ PF₂)]۔ مثال کے طور پر 200 kW کا لوڈ 0.72 سے بڑھا کر 0.95 کرنے کے لیے تقریباً 130 kVAr درکار ہیں۔ یہ حساب بینک کی پہلی بنیاد ہے، لیکن واحد نہیں۔ بینک کی اصل گنجائش حساب شدہ kVAr سے 10 فیصد زیادہ رکھنی چاہیے، تاکہ کیپیسیٹر کی قدرتی عمر کے ساتھ ہونے والی کیپیسیٹینس میں کمی کو پورا کیا جا سکے۔
وولٹیج کی درجہ بندی
پاکستان کے صنعتی علاقوں میں لائن وولٹیج 380V سے 440V تک اتار چڑھ سکتی ہے۔ اس لیے 415V سسٹم کے لیے 440V ریٹڈ کیپیسیٹر کم از کم حفاظتی حد ہے۔ جو فیکٹریاں ڈیزل جنریٹر کے ساتھ بھی چلتی ہیں، ان کے لیے 460V ریٹڈ کیپیسیٹر زیادہ محفوظ ہے کیونکہ جنریٹر کے ساتھ وولٹیج ریگولیشن کا فرق زیادہ ہوتا ہے۔ وولٹیج کی ریٹنگ خاموشی سے بڑی رکھنے کا فائدہ صرف حفاظت نہیں، بلکہ زیادہ وولٹیج کی ریٹنگ پر کیپیسیٹر کا رپل کرنٹ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔
درجہ حرارت کی کیٹیگری
کیپیسیٹر کی درجہ حرارت کی کیٹیگری عام طور پر 35°C یا 50°C ہوتی ہے، اور اس سے تجاوز پر عمر نمایاں کم ہو جاتی ہے۔ گرمی کے مہینوں میں اندرونی سٹیشنوں کا درجہ حرارت 50°C سے تجاوز کر سکتا ہے، اس لیے 50°C کیٹیگری والے کیپیسیٹر کا انتخاب کریں۔ ہر 5°C اضافے پر کرنٹ کی درجہ بندی 5 تا 8 فیصد کم کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر سٹیشن کا اندرونی درجہ حرارت 55°C ہے تو 50°C کیٹیگری والے کیپیسیٹر سے 8 فیصد تک کم کرنٹ حاصل کرنے کی توقع رکھیں۔
ہارمونکس کی جانچ
اگر سسٹم میں VFD لوڈ کا تناسب 20 فیصد سے زیادہ ہے، تو سادہ کیپیسیٹر کے بجائے ڈی ٹیونڈ ریاکٹر کے ساتھ بینک ضروری ہے۔ ہارمونک کرنٹ کیپیسیٹر میں تھرمل اوورلوڈ پیدا کرتا ہے اور ESR میں اضافہ کیپیسیٹر کو تباہ کر سکتا ہے۔ اسٹیل ملز کے آرک فرنس اور ویلڈنگ کے آلات ہارمونک کا بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے وہاں ڈی ٹیونڈ گریڈ ہی قابلِ اعتماد ہے۔
تقابلی جدول: معیاری اور ہارمونک گریڈ
| پیرامیٹر | معیاری کیپیسیٹر | ہارمونک (ڈی ٹیونڈ) گریڈ | فیصلہ کا معیار |
|---|---|---|---|
| kVAr رینج | 5 تا 50 kVAr ماڈیولر | 5 تا 30 kVAr | حساب شدہ kVAr سے 10 فیصد زیادہ لیں |
| ریٹڈ وولٹیج | 440V | 440V یا 480V | سسٹم وولٹیج سے کم از کم 10 فیصد زیادہ |
| درجہ حرارت کی کیٹیگری | 35°C یا 50°C | 50°C | گرم علاقوں میں 50°C ہی منتخب کریں |
| tan δ (ESR) | ≤ 0.002 | ≤ 0.002 | قیمت کم ہو تب بھی کم ESR ترجیح رکھتا ہے |
| متوقع عمر | 60,000 گھنٹے (40°C پر) | 60,000 گھنٹے (50°C پر) | 50°C پر عمر کی تصدیق ضروری ہے |
| مجوزہ استعمال | موٹر، لائٹنگ، عام لوڈ | VFD، آرک فرنس، ویلڈنگ | ہارمونک تناسب 20 فیصد سے بڑھنے پر ڈی ٹیونڈ لیں |
مرحلہ وار انتخاب کا طریقہ
- ایک ہفتے تک مین انکمر کے پاور فیکٹر میٹر کی ریڈنگ لیں۔ تینوں شفٹوں میں کم سے کم PF ریکارڈ کریں، اوسط نہیں، کیونکہ بینک کی سائزنگ بدترین حالت پر مبنی ہونی چاہیے۔
- لوڈ کا کل kW اور موجودہ PF سے درکار kVAr کا فارمولے سے حساب کریں۔ اس کے بعد نتیجے میں 10 فیصد اضافہ کر کے حتمی گنجائش مقرر کریں۔
- بینک کو 5 یا 6 ماڈیولر یونٹس میں تقسیم کریں تاکہ جزوی لوڈ پر بھی درست کنٹرول ممکن ہو۔
- وولٹیج اور درجہ حرارت کی پیمائش کریں۔ اگر وولٹیج 430V سے تجاوز کرتا ہے تو 460V ریٹڈ یونٹ منتخب کریں۔
- ہارمونک تجزیہ کریں۔ VFD تناسب 20 فیصد سے زیادہ ہونے پر ڈی ٹیونڈ ریاکٹر کے ساتھ ہی خریداری کریں۔
- خریداری سے پہلے سپلائر سے 50°C پر متوقع عمر کی ڈیٹا شیٹ طلب کریں اور tan δ کی تصدیق کریں۔ جو یونٹ 50°C پر 60,000 گھنٹے کی عمر نہیں بتاتا، اسے گرم علاقوں میں استعمال کرنے سے گریز کریں۔
مقامی تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکسٹائل ملز میں موسم گرما کے مہینوں میں کیپیسیٹر کی ناکامی کی سب سے عام وجہ ناکافی وولٹیج ریٹنگ اور ہارمونکس کی عدم جانچ ہے۔ kVAr کا حساب درست ہونے کے باوجود یہ دونوں پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

AKKN Electronics Pakistan