پاکستان کے صنعتی شعبے — ٹیکسٹائل، اسٹیل اور سیمنٹ — میں بجلی کی بندش اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کے باعث پاور الیکٹرانکس کی مرمت معمول کا کام بن چکی ہے۔ پرانے پرزے کی جگہ نیا کیپیسیٹر لگاتے وقت اکثر یہ الجھن ہوتی ہے کہ مائع الیکٹرولائٹک پرزہ لگائیں یا سالڈ پولیمر۔ دونوں کی قیمت، حجم اور عمر کا رویہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس مضمون میں دونوں کی عمر کے تعین کا طریقہ اور ڈی ریٹنگ کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں تاکہ مرمت کا فیصلہ جلد اور درست ہو سکے۔
عمر کا ماڈل: سادہ الفاظ میں
مائع الیکٹرولائٹک ایلومینیم کیپیسیٹر کی عمر کا دارومدار الیکٹرولائٹ کے خشک ہونے پر ہے۔ جیسے جیسے الیکٹرولائٹ بخارات بنتا ہے، ESR بڑھتا ہے اور کیپیسیٹینس کم ہوتی ہے۔ عام صنعتی اصول ہے کہ ہر 10°C کمی پر اس کی زندگی تقریباً دو گنا بڑھ جاتی ہے۔ اگر کوئی کیپیسیٹر 105°C پر 2000 گھنٹے کی ریٹنگ رکھتا ہے تو 85°C پر تقریباً 8000 گھنٹے چل سکتا ہے، بشرطیکہ رپل کرنٹ درجہ بند حد میں ہو۔
سالڈ پولیمر کیپیسیٹر میں مائع الیکٹرولائٹ نہیں ہوتا، اس لیے خشک ہونے کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس کی عمر conductive پولیمر کی گرمی سے بگاڑ کو برداشت کرنے پر منحصر ہے۔ یہ بگاڑ بھی ESR میں بتدریج اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، لیکن مائع الیکٹرولائٹ کے مقابلے میں یہ سست ہوتا ہے۔ اسی لیے 105°C پر سالڈ پولیمر کی عام ریٹڈ عمر عموماً 10000 سے 20000 گھنٹے تک دیکھنے میں آتی ہے۔
دونوں قسم کے کیپیسیٹر پر زیادہ حرارت اور زیادہ رپل کرنٹ عمر کو تیزی سے کم کرتے ہیں۔ رپل کرنٹ ESR کے ذریعے اندرونی حرارت پیدا کرتا ہے۔ سالڈ پولیمر کا ESR مائع کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے — مثلاً 5 سے 15 ملی اوہم بمقابلہ 50 سے 200 ملی اوہم — اس لیے اسی رپل کرنٹ پر پولیمر کا سیلف ہیٹنگ بہت کم ہوتا ہے۔
درجہ حرارت اور رپل کرنٹ کی ڈی ریٹنگ
ایک عددی مثال لیں۔ فرض کریں 470 µF / 450 V کا مائع الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر جس کا ESR 80 ملی اوہم ہے، اس میں 1.5 A کا رپل کرنٹ گزر رہا ہے۔ پیدا ہونے والی حرارت P = I² × ESR = 1.5² × 0.08 ≈ 0.18 واٹ ہے۔ اسی کیپیسیٹر کے سالڈ پولیمر ورژن میں ESR 12 ملی اوہم ہو تو حرارت صرف 0.027 واٹ رہ جاتی ہے۔ رپل کرنٹ آدھا کرنے سے گرمی چوتھائی رہ جاتی ہے، اس لیے بوجھ کم کرنا (ڈی ریٹنگ) ہر صورت میں سستا اور محفوظ طریقہ ہے۔
عمومی اصول کے طور پر جب محیطی درجہ حرارت 70°C سے زیادہ ہو تو رپل کرنٹ کو ریٹنگ کے 70 فیصد تک محدود رکھیں۔ وولٹیج کی ڈی ریٹنگ بھی اتنی ہی اہم ہے: مائع الیکٹرولائٹک کے لیے آپریٹنگ وولٹیج ریٹیڈ کا 80 فیصد سے زیادہ نہ رکھیں؛ سالڈ پولیمر کے لیے 90 فیصد تک استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر سرج وولٹیج کے خلاف حاشئہ ضرور رکھیں۔
| آپریٹنگ حالت | مائع الیکٹرولائٹک | سالڈ پولیمر |
|---|---|---|
| 105°C، ریٹیڈ رپل کرنٹ کا 100% | 2000 سے 5000 گھنٹے | 10000 سے 20000 گھنٹے |
| 85°C، ریٹیڈ رپل کرنٹ کا 50% | 8000 سے 20000 گھنٹے | 30000 سے 60000 گھنٹے |
| 70°C، ریٹیڈ رپل کرنٹ کا 90% | 15000 سے 40000 گھنٹے | 40000 سے 70000 گھنٹے |
| 105°C، ریٹیڈ رپل کرنٹ کا 130% | 1000 سے 2500 گھنٹے | 5000 سے 10000 گھنٹے |
یہ جدول مختلف مینوفیکچررز کی عام ڈیٹاشیٹ حدود پر مبنی تخمینہ ہے۔ پولیمر کے لیے درجہ حرارت کا ایکسلریشن مائع کے مقابلے میں مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اصل قدریں ہر پرزے کی مخصوص ریٹنگ کے ساتھ بدلتی ہیں۔
انتخاب کے عملی اصول
- وولٹیج کی ڈی ریٹنگ: مائع الیکٹرولائٹک کے لیے ریٹیڈ وولٹیج کا 80 فیصد، پولیمر کے لیے 90 فیصد سے آگے نہ بڑھیں۔ بار بار بجلی بند ہونے والے علاقوں میں سرج وولٹیج کا حساب لگا کر مزید حاشئہ رکھیں۔
- رپل کرنٹ پر توجہ دیں: پرانے پرزے کی رپل کرنٹ ریٹنگ نوٹ کریں اور نیا پرزہ کم از کم اسی ریٹنگ کا ہونا چاہیے۔ ورنہ ESR میں اضافے سے اندرونی حرارت بڑھے گی اور عمر کم ہو جائے گی۔
- پولیمر کا صحیح استعمال: ایس ایم پی ایس آؤٹ پٹ اور ڈی سی لنک جیسی جگہوں پر جہاں رپل کرنٹ زیادہ ہوتا ہے، سالڈ پولیمر بہتر انتخاب ہے۔ لیکن جہاں سرج کرنٹ کو محدود کرنے کے لیے اندرونی مزاحمت کا خاص کردار ہے، وہاں مائع الیکٹرولائٹک سے موازنہ ضرور کریں۔
- متوازی پرزے لگانا: پولیمر کی کیپیسیٹینس فی حجم کم ہوتی ہے۔ اگر پرانے مائع کیپیسیٹر کی capacitance درکار ہو تو دو تین پولیمر متوازی میں لگائے جا سکتے ہیں؛ اس سے رپل کرنٹ بھی تقسیم ہو جاتا ہے۔
- گرمی کا بندوبست: ٹیکسٹائل مل کے کنٹرول پینل میں کیپیسیٹر کو ہیٹ سورس کے قریب نہ رکھیں۔ مائع الیکٹرولائٹک کے لیے ہر 10°C کم اندرونی حرارت پر عمر دو گنا بڑھ جاتی ہے، اس لیے وینٹیلیشن کا انتظام کم خرچ اور مؤثر طریقہ ہے۔
- وصولی کے وقت جانچ: نئے پرزے کی ESR اور کیپیسیٹینس کی پیمائش کریں۔ پرانا ذخیرہ شدہ مائع الیکٹرولائٹک پرزہ بھی پہلے استعمال کے دوران ریٹیڈ عمر فراہم نہیں کرتا۔

AKKN Electronics Pakistan