ایک عام منظر: سٹیل مل کے ڈرائیو پینل میں بجلی کی ایک بندش کے بعد تین میں سے دو الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر چند ہفتوں میں پھول جاتے ہیں۔ الیکٹرولائٹ کا رساو آس پاس کے سرکٹ بورڈ پر صاف دکھائی دیتا ہے، اور مشین بار بار اوور وولٹیج فالٹ پر رک جاتی ہے۔ متبادل پرزہ لگانے کے بعد بھی ناکامی پندرہ دن میں دوبارہ ظاہر ہوتی ہے۔
یہ علامت صرف پرزے کی کمزوری نہیں، بلکہ ڈیزائن مارجن کی کمی کا نتیجہ ہے۔ کیپیسیٹر کے اندر ڈائی الیکٹرک پر اصل وولٹیج ریٹیڈ قدر سے زیادہ پڑ رہا ہے، یا سرج کی صورت میں وولٹیج اتنی دیر تک اونچا رہتا ہے کہ اندرونی آکسائیڈ پرت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مرمت سے پہلے تین پرتیں جانچنی چاہئیں۔
پرت در پرت وجہ کا سراغ
پہلی پرت: مستقل وولٹیج اور نیٹ کی حالت
ملٹی میٹر سے صرف ایک وقت پر وولٹیج ناپنا کافی نہیں۔ صنعتی علاقوں میں نیٹ وولٹیج دن کے مختلف اوقات میں 200 V سے 260 V تک اتار چڑھاؤ کرتا ہے۔ اگر 230 V نیٹ سے بننے والے ڈی سی لنک میں 350 V کا کیپیسیٹر لگا ہو، تو زیادہ وولٹیج کے وقت اصل وولٹیج 370 V سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ ریٹیڈ قدر سے اوپر ہے اور عمر تیزی سے گھٹتی ہے۔
دوسری پرت: سرج اور ٹرانزینٹ
سرج کی دو عام قسمیں ہیں: بجلی گرنے سے نیٹ پر آنے والا امپلس، اور پینل کے اندر کانٹیکٹر یا انورٹر سوئچنگ سے پیدا ہونے والا تیز وولٹیج اسپائک۔ الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر ان میں سے بہت سے سرجز اپنے اندر جذب کر لیتا ہے، مگر بار بار آنے والی سرج ایک ہی جگہ آکسائیڈ پرت کو کمزور کر دیتی ہے۔ خاص طور پر وہ سسٹم جہاں بڑے موٹر کانٹیکٹر بغیر سنبر کے کام کرتے ہیں، وہاں یہ مسئلہ عام ہے۔
تیسری پرت: گرمی اور ESR کا چکر
بند پینل میں محیطی درجہ حرارت 60°C تک پہنچ سکتا ہے۔ الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر پر ہر 10°C اضافے کے ساتھ عمر تقریباً آدھی رہ جاتی ہے۔ زیادہ وولٹیج اور زیادہ گرمی مل کر ESR بڑھاتے ہیں، ESR بڑھنے سے اندرونی حرارت مزید بڑھتی ہے، اور یوں ناکامی کا سلسلہ خود کو تقویت دیتا ہے۔
پیمائش کے طریقے اور قبولیتی حدیں
ڈی سی بس کی پیمائش کے لیے ڈیجیٹل اسٹوریج آسیلوسکوپ اور 10:1 پروب استعمال کریں۔ پروب کو ڈی سی کپلنگ پر رکھیں، پیک ہولڈ فنکشن چالو کریں، اور کم از کم ایک ہفتے تک وولٹیج لاگر سے نیٹ کے اتار چڑھاؤ کا ریکارڈ رکھیں۔ خاص طور پر گرج چمک اور فیکٹری کے اندر بڑے موٹر لوڈ کے آغاز کے وقت کی پیمائش ضروری ہے۔ رپل کرنٹ ناپنے کے لیے کرنٹ پراب اور ڈی سی لنک کے سیریز پاتھ پر پیمائش کریں۔
عملی قبولیتی اصول درج ذیل ہیں:
| ریٹیڈ ڈی سی وولٹیج | مستقل کام کے لیے زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ | مختصر سرج کی حد (1 سیکنڈ سے کم) |
|---|---|---|
| 400 V | 320–340 V | 400 V |
| 450 V | 360–380 V | 450 V |
| 500 V | 400–425 V | 500 V |
- ڈی سی لنک یا کسی بھی الیکٹرولائٹک کیپیسیٹر کا مستقل آپریٹنگ وولٹیج ریٹیڈ وولٹیج کے 80 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
- زیادہ سے زیادہ سرج چوٹی ریٹیڈ وولٹیج سے تجاوز نہ کرے؛ اگر تجاوز کرے تو اس سے پہلے ایم او وی یا سنبر کا انتظام کریں۔
- رپل کرنٹ کی حد: 45°C محیطی درجہ حرارت پر ریٹیڈ رپل کرنٹ کا تقریباً 100 فیصد، جبکہ 85°C پر صرف 40–50 فیصد استعمال کریں۔
- ای ایس آر کی پیمائش نئے پرزے کی ڈیٹا شیٹ سے کریں؛ اگر پرانے پرزے کا ESR دو گنا سے زیادہ ہو تو پرزہ خراب سمجھیں۔
روک تھام کی چیک لسٹ
- وولٹیج کلاس کم از کم 20–25 فیصد اضافی مارجن کے ساتھ چنیں۔ 230 V نیٹ کے لیے 400 V ڈی سی ریٹیڈ بنیادی حد ہے، اور ڈی سی لنک کے لیے 450 V یا 500 V زیادہ محفوظ انتخاب ہے۔
- سرج کا ذریعہ ختم کریں: کنٹیکٹر کوائل پر آر سی سنبر، انورٹر آؤٹ پٹ پر موٹر کیبل کی لمبائی کم، اور ڈی سی بس پر مناسب بریکنگ ریزسٹر لگائیں۔
- وینٹیلیشن بہتر بنائیں: پینل کا ایگزاسٹ پنکھا صاف رکھیں اور کیپیسیٹر کو گرم عناصر اور وینٹیلیشن کے منہ سے دور لگائیں۔
- پرانے اور نئے کیپیسیٹر متوازی نہ لگائیں۔ ای ایس آر کے فرق کی وجہ سے نیا پرزہ زیادہ کرنٹ اٹھائے گا اور جلد خراب ہوگا۔
- ہر چھ ماہ بعد گنجائش اور ای ایس آر کی پیمائش کا ریکارڈ رکھیں تاکہ خرابی کا رجحان وقت سے پہلے نظر آ جائے۔
کیپیسیٹر کی ناکامی کوئی حادثہ نہیں ہوتی۔ وولٹیج ڈی ریٹنگ، سرج برداشت اور گرمی کا مارجن ایک ساتھ طے کیا جائے تو مرمت کے بعد وہی سسٹم سالوں تک بغیر فالٹ کے چلتا ہے۔ پیمائش کے بغیر صرف پرزہ تبدیل کرنا مسئلہ ٹالتا ہے، حل نہیں کرتا۔

AKKN Electronics Pakistan