فلم کیپیسیٹرز (خاص طور پر میٹلائزڈ پولی پروپیلین) صنعتی ڈرائیوز، انورٹرز اور پاور فیکٹر کریکشن سرکٹس میں کام کرتے ہیں۔ جب کوئی اصلی پرزہ مارکیٹ میں دستیاب نہ ہو تو انجینئر کو متبادل ڈھونڈنا پڑتا ہے، لیکن صرف کیپیسیٹینس اور وولٹیج ملانے سے کام نہیں چلتا۔ اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ سیلف ہیلنگ اور dV/dt ریٹنگ کیوں اہم ہیں، کون سے پیرامیٹرز بالکل ملنے چاہئیں، اور کون سے تھوڑے فرق سے چل سکتے ہیں۔
سیلف ہیلنگ کا اصول اور صنعتی اہمیت
میٹلائزڈ فلم کیپیسیٹر میں ڈائی الیکٹرک فلم کی موٹائی بہت کم ہوتی ہے، اور دونوں طرف دھات کی انتہائی باریک تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ اگر اندرونی وولٹیج کی وجہ سے کسی مقام پر بریک ڈاؤن ہو جائے تو اس جگہ پر موجود دھات کی تہہ بخارات بن کر اڑ جاتی ہے اور فلم کی موصلیت دوبارہ قائم ہو جاتی ہے۔ اسے سیلف ہیلنگ کہتے ہیں۔
پاکستان میں بجلی کے اتار چڑھاؤ اور بار بار آنے والی بندشوں کی وجہ سے کیپیسیٹر پر بار بار سرج وولٹیج پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں سیلف ہیلنگ کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ ایک چھوٹا سا اندرونی نقص کیپیسیٹر کو ناکارہ نہیں بنا سکتا، بلکہ وہ کام کرتا رہتا ہے۔ البتہ ہیلنگ کے دوران کیپیسیٹینس میں معمولی کمی آتی ہے، اور اگر بار بار بریک ڈاؤن ہوتا رہے تو آخر کار کیپیسیٹر کھلا سرکٹ بن جاتا ہے۔
dV/dt ریٹنگ کس سرکٹ میں فیصلہ کن ہے
dV/dt کا مطلب ہے وولٹیج کی تبدیلی کی زیادہ سے زیادہ شرح (وولٹ فی مائیکرو سیکنڈ) جو کیپیسیٹر برداشت کر سکتا ہے۔ پلس سرکٹس، سنبر کیپیسیٹرز اور انورٹر سوئچنگ میں یہ پیرامیٹر کیپیسیٹینس سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اگر کیپیسیٹر کی dV/dt ریٹنگ کم ہو اور سرکٹ میں پلس بہت تیز ہو تو اندرونی کنڈلی کے کناروں پر ڈسچارج شروع ہو جاتا ہے، جس سے فلم جلتی ہے اور کیپیسیٹر جلدی ناکام ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، آئی جی بی ٹی سنبر سرکٹ میں سوئچنگ فریکوئنسی اور کرنٹ کی رفتار کا حساب لگا کر ضروری dV/dt معلوم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کیپیسیٹینس اور وولٹیج کے دو کیپیسیٹرز میں سے ایک کام کرتا ہے اور دوسرا گرم ہو کر خراب ہو جاتا ہے۔
متبادل انتخاب کے لیے پیرامیٹرز کا تقابل
متبادل کیپیسیٹر تلاش کرتے وقت درج ذیل پیرامیٹرز کی ترتیب سے جانچ کریں:
- کیپیسیٹینس (±5% سے ±10% برداشت): ایک جیسی ہونی چاہیے، ورنہ سرکٹ کی فریکوئنسی اور فلٹرنگ بدل جائے گی۔
- ریٹڈ وولٹیج: محیط کے درجہ حرارت کے مطابق ڈی ریٹنگ کریں۔ 50°C کے ماحول میں ریٹڈ وولٹیج کا 80% سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
- dV/dt ریٹنگ: پلس سرکٹس میں یہ برابر یا زیادہ ہونی چاہیے۔ کم نہیں ہونی چاہیے۔
- آپریٹنگ ٹمپریچر رینج: کم از کم −25°C سے +85°C والا کیپیسیٹر چنیں۔ ملز کے اندرونی ماحول کے لیے +105°C رینج زیادہ محفوظ ہے۔
- کیس کا سائز اور ماؤنٹنگ: یہ مکینکل فریم میں فٹ ہونے کے لیے اہم ہے، لیکن ضروری نہیں کہ بالکل ایک جیسا ہو۔
| پیرامیٹر | مطابقت کی سطح | وجہ |
|---|---|---|
| کیپیسیٹینس (µF) | بالکل ملنا ضروری | فلٹرنگ فریکوئنسی اور ٹائمنگ بدل جاتی ہے |
| ریٹڈ وولٹیج (V) | برابر یا زیادہ | کم وولٹیج والا کیپیسیٹر سرج میں ناکام ہو سکتا ہے |
| dV/dt (V/µs) | برابر یا زیادہ | کم ریٹنگ والا کیپیسیٹر ڈسچارج سے خراب ہوتا ہے |
| تھرمل رینج (°C) | ماحول سے بہتر | زیادہ حرارت میں ڈی ریٹنگ ضروری ہوتی ہے |
| کیس سائز اور ماؤنٹنگ | معمولی فرق قابل قبول | مکینکل فٹ ہونے کے بعد کام پر اثر نہیں پڑتا |
وصولی اور جانچ کے عملی مراحل
نیا متبادل کیپیسیٹر لگانے سے پہلے درج ذیل مراحل مکمل کریں:
- ایل سی آر میٹر سے کیپیسیٹینس کی پیمائش کریں۔ ریٹڈ ویلیو سے ±10% سے زیادہ فرق نہ ہو۔
- انسولیشن ریزسٹنس چیک کریں۔ اچھا کیپیسیٹر میگا-اوہم رینج میں ریزسٹنس دکھاتا ہے۔
- کیپیسیٹر کو 10 سے 15 منٹ تک ریٹڈ وولٹیج کے 90% پر چلائیں اور سطح کا درجہ حرارت چیک کریں۔ محیط سے 10°C سے زیادہ گرم نہیں ہونا چاہیے۔
- سرکٹ میں لگانے کے بعد پہلے 30 منٹ میں وولٹیج کے ویوفارم پر نظر رکھیں۔ اگر رپل یا سپائیک بڑھے تو کیپیسیٹر کی ریٹنگ ناکافی ہے۔
خریداری کے عملے کو چاہیے کہ وہ مذکورہ پیرامیٹرز کی بنیاد پر کسی بھی سپلائر سے ڈیٹاشیٹ طلب کریں اور پیمائش سے تصدیق کریں۔ جن کیپیسیٹرز کا تھرمل سائیکلنگ ٹیسٹ دستیاب نہ ہو، انہیں شدید گرمی والے یونٹس میں لگانے سے گریز کریں۔

AKKN Electronics Pakistan